PMLN Archive

Monday, 30 November 2015

یو سی سوئیں چیمیاں کے نوجوان فواد ایڈووکیٹ کی ایم پی اے شوکت بھٹی کو وارننگ۔۔۔۔۔۔


یونین کونسل سوئیں چیمیاں میں لیگی آمنے سامنے ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی فائدہ اٹھانے کے لیے کوشاں ، ملک برادری اور لیگی ووٹوں کی تقسیم سے سلیم اکرم کے پوجہے جم سکتے ہیں ( حلقے) 

بلدیاتی انتخابات کی گہما گہمی ہر دوسری جگہ کی طرح شرقی گوجر خان کی یونین کونسل سوئیں چیمیاں میں بھی کسی سے کم نہیں جہاں حکومتی پارٹی مسلم لیگ باہم دست و گریبان ہے جبکہ تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی بھی تیر کے نشان پر انتخاب لڑنے کے لیے امیدوار تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے ، ایک تیسرا پینل بھی خود کو ن لیگی پینل کہتے ہوئے میدان میں ہے ، سوئیں چیمیاں کے سیاسی حلقوں کے نزدیک پیر بدر جنہیں حکومتی ایم پی اے کی حمایت حاصل ہے اور مسلم لیگ کے نامزد امیدوار ملک شیرافگن بظاہر مقابلے میں ہیں اور جیتنے کے امکانات انہی میں سے کسی ایک کے نظر آتے ہیں لیکن انکے ووٹ تقسیم ہونے کا فائدہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اٹھا سکتی ہے ، بعض حلقے یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے امیدوار چونکہ ایک ہی برادری سے ہیں اور شیرافگن اور سائیں بدر ایک ہی جماعت سے جبکہ پانچواں پینل زیادہ سیریس دکھائی نہیں دیتا اسلیے ووٹوں کی بڑے پیمانے پر تقسیم سے سلیم اکرم ( تحریک انصاف) کے پوجہے وے جمی سکنے

وارثّی صا حب کے چار پرانے ديوانے۔۔۔۔۔۔۔ان کی ياديں کرتے ہيں تازہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ايک وقت تھا جب بيول محلے ميں مکمل طور پر وارثّی صا حب کی مخالفت کی جا تی تھی۔ اس دور ميں صابر صا حب حوالد نصيروارثّی فيصل نواز وارثّی اور خالدصاحب تھے۔ان کے بارےاس وقت کہا جا تا تھا کہ يہ قربانی کے بکر ے بنے ہيں ان چاروں کی بہت مخلفت کی گی اور ايک طرح سے ان کو ٹاچر کيا جا تا رہا ۔ ان چاروں پر کس طرح کے جملے کسے گے يہ چاروں اپنی زبان سے بہتر بتا سکتے ہيں۔ دلچسپ با ت يہ تھی کہ ان چاروں کو اپنے قريبی عزیز وں کی بھی با تيں برداشت کرنی پڑھی ۔ دن گزرتے گے ۔ وارثّی صا حب کی عزت ميں اضا فہ ہو تا گيا۔ حوالد نصير اور فيصل نواز وارثّی نے فخريہ انداز ميں کہا کہ ہم وارثّی کی سپورٹ کرتے رہے اور ايک چاے کی پيا لی بھی نہيں پی ۔ اس کے بعد کچھ لوگ وارثّی کے قريب اتے گے اور کچھ اپنے مفاد کو ديکھ کر رنگ بد لتے رہے۔ اس بات کو تو وارثّی صا حب بھی تسليم کر يں گے کہ ان چار ديوانوں کی قربانی ہی اج وہ وقت لاہی کہ اب وارثّی صا حب کے سا تھ ادھے سے زيا دہ بيول محلہ ہو چکا۔ وارثّی کےان چار ديوانوں کو وارثّی کے مخالفين اپنی طر ف راغب کرنے کی کو شش کرتے رہے مگر نا کام رہے۔وارثّی کے ان چار ديوانوں کی مثّا ليں وارثّی صا حب خود بھی ديتے ہو ں گے 


No comments:

Post a Comment