PMLN Archive

Thursday, 26 November 2015

خورشيد احمد ايڈووکيٹ ہے کيا چيز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضيغم سہيل وارثّی۔

  مجھے کبھی دلچسپی نہيں رہی کہ لوکل بيول کے بارے لکھوں۔ اب کی بار تنقيد بھی ہوی۔لکھنے کی وجہ وارثّی صا حب بنے۔ کہتے ہيں زيا دہ پڑھے لکھے سے اپنی مرضی کروانا بہت مشکل۔مگر وارثّی صا حب نے کونسلر کی سيٹ کے ليے ايک ايڈووکيٹ کو ريڈی کيا ۔ پھر سوچا اس بار ہميں بھی اپنی انا چھوڑ کر لکھنا چاہيے۔ جب بھی کسی کا نام سامنے آتا تو ايک دم کہا جاتا کہ اس کو جانتا کو ن ۔ بتاتا چلوں کہ سياست دان ميدان ميں آنے کے بعد ہی نعرے مارتے کہ ہم يہ يہ کر ديں گے۔ خورشيد صاحب کی پرسنيلٹی پر ظاہری سی بات ہے ان کے اپنے عزیز وں کا اثّر تو پڑا ہوگا۔ وہ کون۔ ان کے والد جن کے شاگرد بہتر سے بتا سکتے۔ والد پڑھے لکھے تھے تو اولاد بھی وکيل ۔ان کے بھا ی ايک کمپنی ميں اچھی پوسٹ پر اس کا فاہدہ جہاں تک ميں جانتا سات سے زيا دہ خاندان کے فرد اس شخص کی ہيلپ سے اچھی جاب کر رہے۔اپنے محلے کے ليے اتنی خدمت بھی کافی۔ مگر تب شاہد ان کے خيا ل ميں بھی نہيں ہو گا کہ ان کا بھای اليکشن لڑے گا۔ کہتے ہيں نسل کامياب کر نی تو تعليم کے وساہل فراہم کيے جاہيں ۔اميد کر تے ہيں کہ خورشدصاحب جيسا پڑھ لکھا سامنے اے گا تو وہ ضرور وہ کچھ اقدامات کر ے گا ان رکاوٹوں کو ختم کر نے کے ليے جو خود برداشت کيں۔ وارثّی صاحب کی چواہس بلکل ٹھيک اب محلے والوں کو زيب نہيں ديتا
 کہ وہ صرف سيا سی نعرے مارنے والوں پر توجہ ديں۔۔

No comments:

Post a Comment