PMLN Archive

Friday, 27 November 2015

مسلم لیگ ن کے شیروں نے اپنے قائدین کا ڈھول کی تھاپ ا

یو سی نور دولال گوجرخان  کمندریال گاوں میں مسلم لیگ ن کے شیروں نے اپنے قائدین کا ڈھول کی تھاپ اور بھنگڑے ڈال کر استقبال کیا۔
راجہ جاوید اخلاص ایم این اے ، راجہ حمید ایڈووکیٹ ، اشتیاق چوہدری چیرمین او پی ایل ، راجہ خورشید عالم نامزد امیدوار برائےچیرمین یوسی دو لال نے خطاب کیا۔
راجہ محمد حمید نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے کارکنوں کی مکمل مشاورت سے ٹکٹ جاری کیے ہیں اور اب تمام امیدواروں سے درخواست ہے کہ وہ پارٹی فیصلوں کو مانیں اور جن لوگوں کے پاس ٹکٹ ہیں ان کی حمایت کریں اور پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں وہ اپنے آپ کو پارٹی سے فارغ سمجھیں۔ 
اشتیاق چوہدری چیرمین او پی ایل نے کہا کہ سابق وزیراعظم لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ میرا قصور کیا ہے آپ نے مجھے کیوں ووٹ نہیں دی اور ایک وزیراعظم کو ہرا دیا آج کے اجتماع کا جواب یہ ہے کہ آپ کو اس شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین نے بڑے فخر سے اپنا ایم این اے بنایا اور پھر آپ وزیر اور وزیراعظم بنے مگر آپ نے واپس اس سر زمین کو سوائے شرمندگی کے کیا دیا پوری دنیا میں ہماری بے عزتی ہوئی لوگ راجہ رینٹل کے نام سے پکارنے لگے اور بحیثت وزیراعطم تو آپ نے حد ہی کر دی لہذا لوگوں کے نزدیک عزت سے قیمتی کوئی چیز نہیں ہوتی اور آپ نے گوجرخان کی عزت اور پگ کو داغدار کیا اور لوگوں نے الیکشن 2013 اپنا بدلہ آپ کو ایک تاریخی شکست دے کر لے لیا ہے اور دنیا کو اور دیگر سیاستدانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہمیں اپنی عزت سے ذیادہ کوئی چیز عزیز نہیں اور کرپشن کسی طور قبول نہیں کریں گے اور نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ سے پاکستان کا مستقبل ہے اور ایماندار قیادت وقت کی ضرورت ہے ۔
راجہ جاوید اخلاص نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1985 میں پہلی دفعہ ایم پی اے بنا تو سب سے پہلا سکول اس علاقے کو دیا اور آج جتنے تعلیمی ادارے ہیں میں نے بنوائے ہیں اور اس وقت گوجرخان سے ماہندر غوثیہ چوک سڑک دی اور آج پھر تیس فٹ چوڑائی کر کے اس چوبیس کروڑ سے مکمل کروایا ہے اور ماہندر کی گیس کی ستاون کروڑ کی فنڈنگ مین لائنوں کے لیے کروا کر دوبارہ کام شروع کروادیا ہے اور ان منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے مزید دو ارب روپے کے فنڈز 
درکار ہیں اگر ایک بھی اس قسم کا منصوبہ سابق وزیراعظم بتا دیں تو میں مان جاؤں گا۔

No comments:

Post a Comment